بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام یشفع رکھنے کا حکم

سوال

میری   بیٹی کا نام تجویز فرمادیں،  جو بہتر ہو، وہ  2مہینے  کی ہوگئی ہے،  ہر وقت روتی رہتی ہے،  اس کا نام  "یشفع"  رکھا تھا!

جواب

 ’’یَشْفَعُ‘‘ فعل مضارع کا صیغہ ہے، اس کا معنی ہے "وہ سفارش کرتا ہے" اور یہ نام مناسب نہیں ہے۔ لہذا لڑکی کا یہ نام نہ رکھا جائے،البتہ اسی کو اسم فاعل کے صیغہ پر لاکر "شَافِعَه" يا " شَفِیْعَه" نام رکھ دیں تو درست ہوجائے گا۔  اِس کے معنی ہوں گے "سفارش کرنے والی"، اور نام کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ ازواج مطہرات  یاصحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں کسی نام پر نام رکھاجائے۔

لسان العرب  ميں ہے:

"و شفع لي يشفع شفاعة و تشفع: طلب. والشفيع : الشافع، و الجمع شفعاء، و استشفع بفلان علي فلان، و تشفع له إليه، فشفعه فيه. و قال الفارسي: استشفعه طلب منه الشفاعة، أي قال له كن لي شافعا۔۔۔ و شافع و شفيع : اسمان، و بنو شافع من بني المطلب بن عبد مناف."

(باب الشین، 4/ 2289 ، ط: دار المعارف)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100131
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں