بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈارموں کے ذریعہ پیسہ کمانا

سوال

ڈرامہ پر پیسا کمانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں عام طور پر  ڈرامہ چوں کہ  جاندار اور نامحرم کی تصاویر اور موسیقی پر مشتمل ہوتا ہے  لہذاان  ڈراموں کا بنانا اور ان  کے ذریعہ پیسہ کمانا ناجائز اور حرام ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون»."

(کتاب اللباس , باب التصاویر جلد 2 ص: 1274 ط: المکتب الاسلامي)

در المختار میں ہے:

"قال ابن مسعود صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله - عليه الصلاة والسلام - «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة."

(کتاب الحظر و الاباحة جلد 6 ص: 348 , 349 ط: دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100122
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں