بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہمبستری کے فوراً بعد کھانے پینے کا حکم

سوال

ہمبستری کے بعد فوراً کچھ کھانا پینا کیساہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ہمبستری کے بعد ہاتھ اور منہ دھوکر غسل کرنے سے پہلے کھانے پینے کی گنجائش ہے، تاہم ہاتھ منہ دھوئے  بغیر کھانا پینا مناسب نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(ويكره له قراءة توراة وإنجيل وزبور) لأن الكل كلام الله وما بدل منها غير معين. وجزم العيني في شرح المجمع بالحرمة وخصها في النهر بما لم يبدل (لا) قراءة (قنوت) ولا أكله وشربه بعد غسل يد وفم.

(قوله: بعد غسل يد وفم) أما قبله فلا ينبغي؛ لأنه يصير شاربا للماء المستعمل وهو مكروه تنزيها ويده لا تخلو من النجاسة فينبغي غسلها ثم يأكل، وفي الخزانة وإن ترك لا يضره. وفي الخانية لا بأس به". 

(کتاب الطهارۃ، سنن الغسل، ج:1، ص:175، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100094
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں