بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بال جلے جانور کی قربانی کرنا

سوال

اگر قربانی کے جانور کا بال جل گیا تو اس کی قربانی ہو گی یانہیں؟

 

جواب

صورت  مسئولہ میں اگر مذکورہ جانور کے صرف بال جلے ہوں، اس کی کھال پر کسی قسم کا کوئی زخم نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی  جائز ہوگی۔

امداد الفتاوی میں ہے:

"جلے ہوئے بالوں والے جانور کی قربانی جائز ہے

 سوال (۲۲۶۵) : قدیم ۳/ ۵۹۷- اور اگر مویشی کی کھال جل جانے کی وجہ سے اس پر بال نہ جمے ہوں اور زخم وغیرہ نہ ہو اور تمام اعضاء صحیح وسالم ہوں تو ایسے مویشی کی قربانی درست ہے یانہیں ؟

الجواب: صریح جزئیہ تو ملا نہیں مگر دو جزیئے اور ملے ان سے ان کی قربانی کا بھی جواز معلوم ہوتا ہے۔ في العالمگیریۃ: وكذا (أی تجزی) المجزوزۃ، وھي التي جز صوفھا، کذا في فتاوی قاضي خان، وفیھا: تناثر شعر الأضحية في غير وقته یجوز إذا کان لھا نقي، أي مخ کذا في القنية ۔ ج۲ ص ۴۔ (تتمہ خامسہ ۱۷۱)"

( كتاب الذبائح و الأضحية والصيد و العقيقة، ٨ / ٣٤٣، ط: مکتبہ زکریا دیوبند)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100085
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں