بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحم اور ہشام نام رکھنا درست ہے

سوال

محمد ارحم بن عباس اور محمد ہشام بن عباس بیٹوں کے نام رکھنا درست ہے؟

جواب

"أرحم " کا معنی ہے زیادہ رحم کرنے والا ، حدیث شریف میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کی صفت ارحم ذکر کی گئی ہے " أرحم أمتي بأمتي أبو بكر " ،اسی طرح " ہشام " بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں سے ہے ۔

لہٰذا ان کے شروع میں تبرک کے لیے" محمد "اور آخر میں کنیت کے طور پر "ابن عباس "لگا کر "محمد  ارحم بن عباس" اور "محمد ہشام بن عباس"  نام رکھنا درست ہے۔

الإصابة في تمييز الصحابة :
"هشام بن حبيش بن خالد المخزوميّ. قال ابن حبّان: له صحبة. وقال البخاريّ: سمع عمر. وأخرج يحيى بن يونس الشيرازيّ، من طريق حرام بن هشام بن حبيش، قال: سمعت أبي يذكر أنّ رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم رأى سحابا بالبادية، فقال: هذا مما يستهل بنصر بني كعب. وقد صحّ أن أباه قتل يوم الفتح. وقد تقدّم لهذا الحديث طريق في ترجمة أسيد بن أبي إياس".

( الإصابة في تمييز الصحابة : القسم الأول، الهاء بعدها الشين ذكر من اسمه هشام، 6/ 421 ط: دار الكتب العلمية بيروت)

 فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100037
تاریخ23-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں