بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا علیحدہ رہائش کا مطالبہ کرنا

سوال

میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہوں،اور تین غیر شادی شدہ بہنیں ہیں،بیوی اور بچے بھی ہیں،میری اہلیہ کا مطالبہ ہے کہ ہمیں علیحدہ رہائش دی جائے،کیا میں اپنی ماں کو چھوڑدوں،جب کہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی شرعی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی بیوی کو ایساکمرہ دے جس میں شوہر کے گھروالوں کی مداخلت نہ ہو،اس کا کچن اور بیت الخلاء بھی الگ ہو لہذا اگر سائل نے بیوی کو ایساکمرہ دیا جس میں گھر والوں کاکوئی عمل دخل نہیں ہے تو یہ کافی ہے،اس صورت میں علیحدہ گھر کامطالبہ کرنا شرعاًدرست نہیں،کیوں کہ والدہ کی خدمت اور بہنوں کی ذمہ داری بھی سائل پر ہے۔

"الفتاوى الهندية"میں ہے:

"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك۔۔امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها، أو مع أحمائها كأمه وغيرها، فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر."

 (الباب السابع عشر في النفقات، ج:1، ص:556،ط: رشيدية)

"ردالمحتار"میں ہے:

"(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله)

(قوله وكذا تجب لها) أي للزوجة السكنى أي الإسكان، وتقدم أن اسم النفقة يعمها؛ لكنه أفردها؛ لأن لها حكما يخصها نهر (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية."

(باب النفقة، مطلب في مسكن الزوجة، ج:3، ص:600، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406102148
تاریخ21-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں