بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا

سوال

 ہمارے ملک برطانیہ میں بہت ساری جگہوں پر اب جنازہ کی نماز مسجد کے اندر ادا کی جا رہی ہے اور اس کے لیے ان کے پاس بظاہر کوئی شرعی عذر یا مجبوری نہیں ہے، اس سلسلے میں ایک طالب علمانہ سوال ہے کہ جب نمازِ جنازہ کا مقصد مرحوم کی مغفرت کے لیے سفارش کرنا ہے، تو کیا بلا کسی مجبوری کے مسجد کے اندر نماز جنازہ پڑھ کر کراہیت والے کام کا ارتکاب کرنا مناسب ہے؟ ایک طرف تو ہم اللہ تعالی سے سفارش کر رہے ہیں کہ  آپ میت کی مغفرت کیجیے ،لیکن سفارش کرتے ہوئے ایسے کام کررہے ہیں جو اللہ تعالی کو نا پسند ہو؟ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس سلسلے میں کہ  نماز جنازہ کو بلا مجبوری مسجد میں ادا کریں تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

کسی شرعی عذر کے بغیر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا  مکروہ ہے ، البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلاً شدید بارش یا برفباری ہو   یاکوئی متبادل جگہ موجود نہ ہوتو اس صورت میں مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

فتاویٰ شامی  میں ہے:

"إنما تكره في المسجد بلا عذر، فإن كان فلا، و من الأعذار المطر كما في الخانية و الاعتكاف كما في المبسوط، كذا في الحلية وغيرها."

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة 226/2 ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406102059
تاریخ19-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں