بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت عمر رضی الہ عنہ کا فالودہ تناول نہ فرمانے کا واقعہ

سوال

ایک واقعہ سنا کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی بارگاہ میں فقیر آیا اور آپ فالودہ کھا رہے تھے اور آپ نے وہ فقیر کو دے دیا ۔کیا یہ واقعہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو کوئی حوالہ بتا دیں۔ اور یہ بھی بتا دیں کہ وہ فالودہ کون سا تھا؟

جواب

باوجود تلاش کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ایساکوئی واقعہ نہ مل سکا۔ البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو فالودہ پیش کیا گیا تو آپ نے اسے  تناول نہیں فرمایا۔ البتہ اس بارے  میں صراحت نہیں ملی کہ وہ کون سا فالودہ تھا۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے :

"37224 -  حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن قيس عن عدي بن ثابت قال: (أتي) ‌علي (بطست خوان) ‌فالوذج فلم يأكل منه۔"

(مصنف ابن أبي شيبة،كتاب الزهد، كلام علي بن أبي طالب -رضي اللَّه عنه، 19/ 323،الناشر: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406102058
تاریخ19-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں