بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندو سے خرید و فروخت جائز ہے

سوال

 ہندو سے بیع کرنے کے بارے میں کہ بیع کرنا جا ئز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  وہ چیز  جو ان سے خریدی جائے وہ جائز ہو (ان کا ذبیحہ یا ناپاک چیز نہ ہو )تو ان سے خریدنا جائز  ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وكذا إسلام البائع ليس بشرط لانعقاد البيع ولا لنفاذه ولا لصحته بالإجماع، فيجوز بيع الكافر وشراؤه."

(فصل في شرائط ركن البيع ، کتاب البیوع ،جلد۵، ص:۱۳۵، ط: دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406102051
تاریخ19-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں