بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی تنخواہ کو اپنی مرضی سے ذاتی استعمال میں لانے کا حکم

سوال

 اگر کسی بندے کی سرکار ی نوکری ہو،اور  وہ ہر مہینے  10000یا5000 روپے اپنےگھروالوں سے چھپا کر استعمال کرتا ہے،تو اس کا یہ  عمل جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص سرکاری نوکری کی بنیاد پر جو تنخواہ حاصل کرتا ہے،وہ اس کی ملکیت ہے،اس میں تصرف کرنے اورخرچ کرنے کے حوالہ سے وہ خود مختار ہے،مذکورہ رقم اگر فضول جگہ پر خرچ کی جارہی ہو تواس طرح کے اسراف و تبذیر سے اجنتاب لازم ہے،اور اگر جائز اور ضرورت کی جگہ خرچ کی جارہی ہوتو   گھر والوں سے چھپا کر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وللإنسان ‌أن ‌يتصرف في ملك نفسه مطلقا."

(كتاب الشرب، ج:23، ص:186، ط:دارالمعرفة)

تبیین الحقائق میں ہے:

"ثم اعلم أن للإنسان ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا ."

(كتاب القضاء، باب مسائل شتي، ج:4، ص:196، ط:دارالكتاب الاسلامي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101998
تاریخ18-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں