بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کے لیے ویسکٹومی (vasectomy) یا نس بندی کرانے کا حکم

سوال

 میرے ایک دوست نے ایک ڈاکٹر سے اپنی زوجہ کے بچے بند کروانے کا مشورہ کیا،تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ ان کے  بچے بند نہ کروائیں، یہ ان کی  صحت  کے لیے مضر ہے، آپ اپنے ہی مردانہ  سپرم ختم کروا لیں، اس سے صرف آپ کے جسم سے بچے پیدا کرنے والے  جراثیم ختم ہو جائیں گے، باقی آپ کی جماع کی طاقت برقرار  رہے  گی،  کیا  ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مرد یا عورت کا ایسا آپریشن کروانا جس سے توالد اور تناسل (بچہ پیدا کرنے)کی صلاحیت بالکل ختم ہوجائے، شرعاً ناجائز  اور منشاِ شریعت کے خلاف ہے اور نظام ِ خداوندی میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے اپنے مردانہ قابلِ تولید جراثیم ختم کروانا شرعاًجائز نہیں ہے،البتہ اگر کسی شرعی عذر کی بنا پرمانعِ حمل کے عارضی تدابیر اختیار کیے جائیں  تو ایسا کرنا جائز ہے۔

"شرح مختصرالطحاوي للجصاص "میں ہے:

"قال: (وكره أبو حنيفة رحمه الله كسب الخصيان، وملكهم، واستخدامهم).

لأنهم لولا رغبة الناس فيهم لما أخصوا، فكان في اقتنائهم معونة على إخصائهم، وذلك مثلة ومحرم، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: "لاإخصاء في الإسلام."

(کتاب الکراھیۃ،ج:8ِ،ص:561،ط:دار البشائر الاسلامیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما ‌خصاء ‌الآدمي ‌فحرام قيل والفرس وقيدوه بالمنفعة وإلا ‌فحرام."

(كتاب الحظر والاباحة،ج:6،ص:388،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101993
تاریخ18-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں