بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

سوال

میری چھوٹی کزن جو مجھ سے تین سال چھوٹی ہے اس نے میری ماں کا دودھ پیا ہے ،کیا اس کے ساتھ میرا نکاح جائز ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی کزن نے سائل کی والدہ کا دودھ رضاعت کی مدت(ڈھائی سال کی عمر کے دوران)میں پیا ہے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوگئی ہے اور سائل کا نکاح مذکورہ کزن کے ساتھ جائز نہیں ہے یہ سائل کی رضاعی بہن ہے، تاہم اگر سائل کی کزن نے مدت رضاعت(ڈھائی سال)گزر نے کے بعد سائل کی والدہ کا  دودھ پیا ہے تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی ہے اور سائل کا نکاح  اس سے شرعا درست ہوگا۔

فتح القدیر میں ہے:

"قال (قليل الرضاع وكثيره سواء إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم) وفي الشرع: مص الرضيع اللبن من ثدي الآدمية في وقت مخصوص أي مدة الرضاع المختلف في تقديرها (قوله قليل الرضاع وكثيره سواء إذا تحقق في مدة الرضاع تعلق به التحريم)."

[كتاب الرضاع، ج:3، ص:438، ط:دار الفكر.]

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"والمحرمات بالرضاع كل من تحرم بالقرابة والصهرية؛ لقوله تعالى: {وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم ‌وأخواتكم ‌من ‌الرضاعة} [النساء: 23]، وقال - عليه الصلاة والسلام -: «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب»."

(کتاب النکاح، ج:3، ص:85، ط:دار الکتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101988
تاریخ18-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں