بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

سوال

فاریکس ٹریڈنگ جائز ہے یا نہیں؟  سب سے پہلے آپ نے اکاؤنٹ بنانا ہوتا ہے،  اس کے بعد اس میں ڈالر خرید کر رکھنے ہوتے ہیں، پھر اس ڈالر سے دوسری کرنسیوں کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر ایک اندازہ بنا کر ایک حد پر اپنی پراڈکشن لگا دیتے ہیں ، اگر وہ اس حد کو چھو لے تو منافع مل  جائے گا،  اگر الٹ سائڈ پر چلی گئی تو نقصان ہو جاتا ہے ۔ اس کو سمجھانے والے کچھ اس طرح سے کہتے ہیں:

" فاریکس ٹریڈنگ ہے ، اس میں کرنسی پیئر پر کام ہوتا ہے جیسا کہ امریکی ڈالر بمقابلہ پاکستانی روپیہ، امریکی ڈالر بمقابلہ ایورو، برطانوی پاؤنڈ بمقابلہ امریکی ڈالر ، اور ان کو خریدتے بیچتے ہیں ۔ پہلے ڈپازٹ کرتے ہیں پھر تجزیہ کرتے ہیں موسم وغیرہ کی پیشن گوئی کے حساب سے کہ کچھ عرصے بعد موسم کیسا رہے گا ٹھیک رہےگا یا نہیں ، ان تجزیوں کے بعد پھر اس کو خریدتے یا بیچتے ہیں اگر فروخت ہمارے تجزیہ کے مطابق ہو تو نفع ہوتا ہے اگر اس کے خلاف ہو تو نقصان، نقصان کو ذہن میں محفوظ رکھتے ہیں پھر اگلی بار دوبارہ اگر تجزیہ درست ہو تو ہونے والا نفع اس نقصان کو ختم کردیتا ہے۔ "

جواب

واضح رہے کہ فاریکس ٹریڈنگ کی مختلف صورتوں میں کچھ ایسی شرائط پائی جاتی ہیں جو شریعت کے منافی ہیں، مثلاً کسی صورت میں بیع قبل القبض کی غیر شرعی شرط ہے ، تو کوئی صورت بیع صرف کی ہے جس میں ہاتھ در ہاتھ نہ ہونا پایا جاتا ہے ، لہٰذا ان غیر شرعی شروط کی بنا پر فاریکس ٹریڈنگ جائز نہیں ہے۔

فاریکس ٹریڈنگ کے حوالے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے تفصیلی فتوی شائع کیا جاچکا ہے ، مذکورہ فتوی پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101983
تاریخ18-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں