بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی اذان کے بعد سوجانا

سوال

ایک مؤذن ہے جو فجر کی اذان دے کر سوجاتا ہے اور یہ عمل کثرت سے کرتا آرہا ہے، بتائیے کیا مسئلہ ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اذان کے بعد سوجانا یا اپنے کسی کام   میں مصروف ہوجانا بشرطیکہ جماعت کی نماز میں شرکت  یا  دیگر مفوضہ ذمہ داریوں میں میں حرج پیدا نہ ہوتا ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ، البتہ اس سے اجتناب بہتر ہے۔ اور  اگر جماعت سے نماز  ادا کرنے میں یا مفوضہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں  حرج آتا ہو تو ایسا کرنا درست نہیں ۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101949
تاریخ18-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں