بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردہ خاتون کے پیٹ سے بچہ نکالنے کا حکم

سوال

حاملہ عورت اگر مرجائے تو اس کے پیٹ میں سے بچہ نکالا جائے گا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں پیٹ میں موجود بچہ میں اگر حرکت ہو، اس کے زندہ ہونے کی قوی امید ہو  تو اس صورت میں بچہ نکالا جائے گا، بصورت دیگر نہیں نکالا جائے گا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

" حامل ماتت فاضطرب في بطنها ولد فإن كان في أكبر الرأي أنه حي يشق بطنها لأنا ابتلينا ببليتين فنختار أهونهما وشق بطن الأم الميتة أهون من إهلاك الولد الحي."

( كتاب الاستحسان، ٥ / ١٣٠، ط: دار الكتب العلمية بيروت )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101926
تاریخ18-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں