بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے پاس جانے کی وجہ سے نماز چھوڑنا

سوال

فجر کی نماز فوت ہو جانے کے خوف سے کیا شوہر کے پاس جانے سے رک سکتے ہیں؟ جب کہ شوہر اصرار کر رہے ہوں؟

جواب

نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا فرض اور اللہ تعالٰی کا حکم ہے اور بغیر عذر کے نماز کو چھوڑدینا ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا شوہر کے پاس جانے کی صورت میں اگر واقعۃً  نماز فوت ہوجانے کایقین ہو، تو اس صورت میں شوہر کے پاس جانا لازم نہیں ہے، اگر چہ شوہر اصرار کر رہا ہو اور شوہر کے بلانے کے باوجود ا س کے پاس نہ جانے کے متعلق  جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں، بیوی ان کی مستحق نہ ہوگی، البتہ اگر وقت میں وسعت ہو کہ غسل کے بعد فجر کی ادائیگی اس کے وقت میں ہوسکتی ہو، تو پھر محض اندیشوں کی بنیاد پر شوہر کو منع نہ کرے۔

مشكاة المصابيح ميں ہے:

"وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌طاعة ‌لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة."

(كتاب الامارة والقضاء، ج:2، ص:1092، ط:المكتب الإسلامي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(‌لعنتها ‌الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية."

(كتاب النكاح، ج:5، ص:2121، ط:دار الفكر، بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101780
تاریخ16-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں