بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام اگر اکیلا رہ گیا تو اس کی نماز کا حکم

سوال

میں اور ایک اور ساتھی نماز پڑھ رہے تھے، دورانِ نماز مقتدی کو حدث لاحق ہوا، تو وہ وضو کرنے گیا ،صرف امام باقی رہا تو امام نے انفرادا اپنی نماز مکمل کی، آیا اس کی نماز ہوگئی؟

جواب

واضح رہے کہ امام کے لیے مقتدی کی نیت کرنا ضروری  نہیں ہے، البتہ مقتدی کے لیے امام  کی نیت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  سائل اور دوسرے  ساتھی نے جماعت کروائی   نماز کے دوران دوسرے ساتھی کو حدث لاحق ہوا اور سائل نے اکیلے نماز مکمل کی تو اس صورت میں سائل کی نماز ہو گئی ہے ۔

تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :

"(‌والإمام ‌ينوي ‌صلاته ‌فقط) و (لا) يشترط لصحة الاقتداء نية ۔۔۔وینوی المقتدي المتابعة."

(کتاب الصلوۃ،مطلب فی سترالعورۃ،424/420/1،سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101749
تاریخ16-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں