بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اونٹ کی نذر مان کر کوئی دوسراجانور ذبح کرنا

سوال

کسی شخص نے منت مانی کے اگر میرا فلاں کام ہوجائے تو اونٹ قربان کرونگا ، پس اس شخص کی حاجت پوری ہوگئی تو اب اسے اونٹ قربانی کرنا ہے ، اگر کسی بھی وجہ سے اونٹ مل نہ سکے تو اس کے بدلے دوسرے جانوروں کو قربانی کر سکتاہے یہ نہیں ؟ یا منت کو پوری کرنے کے لئے کیا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس شخص نے اونٹ ذبح کرنے کی نذر(منت) مانی ہے تومنت پوری ہونے کے بعد اونٹ ذبح کرےاور اگر کسی وجہ سے اونٹ نہ مل سکے تودوسرے جانور یعنی  گائے یاسات بکرے ذبح کرسکتاہے۔

الدرالمختار مع الردالمحتار میں ہے:

"(‌ولو ‌قال ‌لله ‌علي أن أذبح جزورا وأتصدق بلحمه فذبح مكانه سبع شياه جاز) كذا في مجموع النوازل ووجهه لا يخفى...قوله ووجهه لا يخفى) هو أن السبع تقوم مقامه في الضحايا والهدايا."

(كتاب الأيمان،ج:3،ص:740،ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌ولو ‌أوجب ‌على ‌نفسه ‌بدنة فهو بالخيار بين شيئين: الإبل والبقر، والإبل أفضل؛ لأن اسم البدانة يقع على كل واحد منهما؛ ولو أوجب جزورا فعليه الإبل خاصة؛ لأن اسم الجزور يقع عليه خاصة، ولا يجوز فيهما إلا ما يجوز في الأضاحي وهو الثني من الإبل والبقر، والجذع من الضأن إذا كان ضخما."

(كتاب النذر،ج:5،ص:85،ط:دارالكتب العلميه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101676
تاریخ14-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں