بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں ایمولینس سروس کا دفتر قائم کرنا

سوال

ہمارے علاقے میں ایک تین کنال زمین ہے جو ’’جیل قبرستان‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور اس میں  لاوارث مردے دفن کیے جاتے تھے، سوسالہ پرانا قبرستان ہے، اب تقریباً بیس سال سے اس میں مردے دفن نہیں کیے جارہے، قبرستان کے اصل مالکان کے ورثاء کے بقول حکومتِ وقت کو یہ زمین قبرستان کے لیے دی گئی تھی۔ اب حکومت ِوقت اس جگہ ’’1122‘‘  ایمبولینس سروس کے لیے دفتر قائم کرنا چاہتی ہے، اہل محلہ اس پر راضی نہیں ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ یہاں دفتر قائم کرنا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ زمین جب قبرستان کے لیے وقف شدہ ہے تو اسے تدفین  کے علاوہ کسی اور   کام کے لیےاستعمال کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قبرستان کے لیے وقف جگہ پر  ایمبولینس سروس کا دفتر قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوى هنديہ میں ہے:

"وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة، كذا في المحيط فلو كان فيها حشيش يحش ويرسل إلى الدواب ولا ترسل الدواب فيها، كذا في البحر الرائق."

(کتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، 2/ 470، ط: رشیدیة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101653
تاریخ14-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں