بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نقلی بالوں کا کاروبار کرنا کیساہے؟

سوال

نقلی بالوں کا کاروبار کرنا کیساہے؟

جواب

نقلی بالوں  کا کاروبار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ بال خنزیر  کے نہ ہوں، اسی طرح کسی دوسرے انسان کے کٹے ہوئے بال نہ ہوں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم ‌تتخذه ‌المرأة لتزيد في قرونها."

(كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في النظر والمس، ج:6، ص:373، ط:سعيد)

 فتاوٰی شامی میں ہے:

"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع."

(باب بيع الفاسد، 5 /69، ط: سعید)

الأشباه والنظائر  ميں ہے:

"الأصل ‌في ‌الأشياء ‌الإباحة حتى يدل الدليل على التحريم."

(القاعدة الثامنة،ص:60،ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101584
تاریخ12-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں