بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحاء نام کا معنیٰ

سوال

حضرت پوچھنا یہ تھا کہ ارحاء نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’اِرحاء‘‘ (الف کے نیچے زیر کےساتھ) عربی میں مستعمل نہیں ہے۔ اور ’’اَرحاء‘‘  (الف پر زبر کے ساتھ) رحی کی جمع ہے، اور جمع کے طور پر مستعمل ہے۔اس کی واحد  " رَحیٰ" ہے، جس کے معنی چکی اور داڑھ کے ہیں۔

  نام رکھنے کے لیے لفظ مناسب نہیں،   بہتر ہے کہ صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیں۔ 

المغرب فی ترتیب المعرب میں ہے :

"رحي": الرَّحى مؤنث وتثنيتُها رحَيان والجمع أرحاءُ وأَرْحٍ وأنكر أبو حاتم الأَرْحِية. وقوله: ما خلا الرَحَى أي وَضْعَ الرحى وتستعار، الأرحاء للأضراس وهي اثنا عشَر."

(باب الراء المهملة، الراء مع الحاء المهملة، ص: 186، ط: دار الكتاب العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101517
تاریخ11-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں