بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق میں شک ہونے کی صورت میں طلاق کا حکم

سوال

کیا شک کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے کہ نہیں؟ جب بندہ تردد میں ہو اور فیصلہ نہیں کر سکتا۔

جواب

طلاق دینےمیں شک ہوجانے  کی وجہ سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

"غمز عيون البصائرفي شرح الأشباه والنظائر"میں ہے:

"أما الطلاق والعتاق فإنهما ‌لا ‌يقعان ‌بالشك."

(قاعدة من شك هل فعل أم لا، ج:1،ص:211، دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101482
تاریخ11-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں