بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کے لیے سود کی رقم سے تنخواہ لینا

سوال

ہمارے ایک مقتدی ہیں،  جو ایک کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں ان کو  کسی طریقے سے معلوم ہوا کہ کمپنی کے مالک نے پچاس کروڑ روپے کی رقم بینک میں رکھی ہوئی ہے اور اس رقم پر جو منافع آتا ہے اسے وہ ملازمین کی تنخواہ پر خرچ کرتا ہے تو کیا میرے لیے  وہ تنخواہ لینا جائز ہوگی یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل کے لیے مذکورہ کمپنی سے تنخواہ لینا جائز ہے ،البتہ اگر وہ یہ کہہ کر  تنخواہ دیتا ہے کہ یہ بینک کی سود ، حرام رقم ہے تو اس سے وہ نہ لیں بلکہ اس کو کہے کہ حلال رقم سے میری تنخواہ ادا کریں ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وإن كانا مما لايتعين فعلى أربعة أوجه: فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق (وإن أشار إليها ونقد غيرها أو) أشار (إلى غيرها) ونقدها (أو أطلق) ولم يشر (ونقدها لا) يتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي قيل: (وبه يفتى) والمختار أنه لايحلّ مطلقًا، كذا في الملتقى. و لو بعد الضمان هو الصحيح، كما في فتاوى النوازل. و اختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام، و هذا كله على قولهما."

(کتاب الغصب ،ج:6،ص؛189،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101331
تاریخ10-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں