بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حجاج کی تعلیم یا خدمت کے لیے جانے والوں پر مروجہ تبلیغ میں وقت لگانے کو اصول بنانے کا حکم

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ شہر ممبئی سے ہر سال حاجی روانہ ہوتے ہیں ، تو ان حاجیوں کی خدمت کے لیے یا ان کو حج کی  ترتیب سکھانے کے لیے انڈیا بھر سے لوگ اپنی سعادت سمجھتے ہوئے ممبئی جاتے ہیں ، لیکن چند سالوں سے حج کمیٹی والوں نے یہ اصول بنا دیا ہے کہ: حاجیوں کی خدمت کے لیے یا حج کی ترتیب سکھانے کے لیے وہی آسکے گا جس کے تبلیغ میں چار مہینے لگے ہوں گے، دریافت طلب امر یہ کہ، کیا حاجیوں کی خدمت کے لیے یہ اصول صحیح ہے کہ چار مہینے لگایا ہوا شخص ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حج کمیٹی والوں کا یہ ضابطہ بنانا درست نہیں کہ"حاجیوں کی خدمت کے لیے یا حج کی ترتیب سکھانے کے لیے وہی آسکے گا جس کے تبلیغ میں چار مہینے لگے ہوں گے" ؛ کیوں کہ حاجیوں کے لیے خدمت کرنے والوں یا معلمین کے بندوبست کا بنیادی مقصد انہیں  راحت پہنچانے اور ان کےحج کی درستگی   کی بھر پور کوشش کرنا ہے،اس لیے اگر  کوئی شخص خدمت کے لیے جانا چاہتاہے اور وہ خدمت پر پورا اترتا ہو  وہ خدمت سے بخوبی واقف ہے یا کوئی مستند عالم دین یا مفتی ان کی تعلیم وتربیت کے لیے جاناچاہتاہےتو اسے لے جاسکتے ہیں۔

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"ويجب أن يتوفر في المعاونين والمساعدين الصفات الشرعية التي يجب مراعاتها في اختيار الأشخاص ۔۔۔مع البحث عن أحسن وأفضل شخص تتوفر فيه الشروط اللازمة، وتتحقق فيه العدالة، وتصان به المصلحة، قال تعالى: {إن ‌خير ‌من ‌استأجرت القوي الأمين} ، فهذه الآية تتضمن اشتراط الأمانة والقوة أي القدرة على القيام بالعمل الذي يسند إليه من أعمال الدولة."

(ج:43، ص:131، ط:دار السلاسل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101312
تاریخ09-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں