بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کے علاوہ کسی اور وقت کی اذان میں الصلاة خير من النوم کا اضافہ کرنا

سوال

"الصلاۃ خیرمن النوم" فجر کی اذان کے بجائے کسی اور اذان میں کہہ دیا تو اس اذان کا کیا حکم ہے؟

جواب

 اگر فجر کی اذان کے علاوہ کسی اور وقت کی اذان میں مؤذن نے بھول کر  "الصلاة خیر من النوم"  کہہ دیاتواذان ہوجائے گی،دوبارہ اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی،باقی جان بوجھ کر ایسا نہ کرے۔ 

تبیین الحقائق میں ہے:

"فلا ينقص شيئا من حروفه ولا يزيد في أثنائه حرفا."

(باب الأذان،ج:1،ص:90،ط:دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) أن يوالي بين كلمات ‌الأذان والإقامة؛ لأن النازل من السماء والى وعليه عمل مؤذني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حتى أنه لو أذن فظن أنه الإقامة، ثم علم بعد ما فرغ - فالأفضل أن يعيد ‌الأذان، ويستقبل الإقامة مراعاة للموالاة وكذا إذا أخذ في الإقامة وظن أنه في ‌الأذان، ثم علم - فالأفضل أن يبتدئ الإقامة لما قلنا."

(كتاب الصلاة،فصل بيان سنن الأذان،ج:1،ص:149،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101304
تاریخ09-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں