بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ بینک میں ملازمت کا حکم

سوال

 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جاب کرتا ہوں۔ کیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جاب کرنا درست ہے یا نہیں کیوں کہ یہ ایک مرکزی بینک کی حثیت رکھتا ہے اور بیت المال کا کردار ادا کرتا ہے۔ 

جواب

 صورتِ مسئولہ  میں   اسٹیٹ بینک کے تمام ملازمین کو سودی رقم اور سودی آمدنی ہی سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، اسی بنا پر اس کے غیر سودی شعبہ   میں بھی کام کرنا جائز نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَأَحَلَّ اللّه الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔"(البقرة)

ترجمہ:"حالانکہ اللہ تعالیٰ نے  بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے"۔(بیان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: هم ‌سواء."

(کتاب المساقاۃ، باب لعن آكل الربا ومؤكله، (219/3) ط: دار احیاء التراث العربی)

ترجمہ:" حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،کھلانے والے،سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت بھیجی ہے،اور فرمایا : یہ سب(گناہ میں) برابر ہیں."  

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101255
تاریخ09-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں