بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت حمل میں جو خون آتا ہے اس کا حکم

سوال

کیا حالت حمل میں حیض کے ایام میں خون آسکتا ہے؟ اگر آسکتا ہے تو وہ حیض ہوگا یا استحاضہ؟

جواب

عورت کو حالتِ حمل میں جو خون آتا ہے وہ نہ حیض ہوتا اور نہ ہی نفاس، بلکہ وہ استحاضہ (بیماری کا خون) ہوتا ہے اور استحاضہ کی وجہ سے نماز اور روزہ معاف نہیں ہوتا؛  لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں عورت کو   دورانِ  حمل جو خون آتا ہے وہ استحاضہ کہلاتا ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة.)"

(ج:1، ص:285، ط:دار الفكر-بيروت)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101220
تاریخ09-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں