بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بینک چلانا جائز ہے؟

سوال

بینک چلانا جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں فی زمانہ ہر قسم کے بینک کا نظام سود پر مشتمل ہے ،سودی معاملات سرانجام دئے جاتے ہیں  اور شرعاً کسی بھی قسم کا سودی لین دین کرنا یا اس میں معاونت کرنا حرام ہے، لہٰذا (سودی )بینک کا چلانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن ‌جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، ‌وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء »."

(صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج: 5، ص: 50، ط: دار الطباعة العامرة تركيا)

ترجمہ: ’’ حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔‘‘

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101076
تاریخ07-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں