بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ازلان‘‘ یا ’’اذلان‘‘ نام رکھنا

سوال

میرا بیٹا 21 دسمبر کو پیدا ہوا، اور میں اس کا نام ’’ازلان‘‘ رکھنا چاہتا ہوں، اس کا معنیٰ کیا ہے؟ اور کیا یہ نام رکھنا درست ہے؟

جواب

اردو، عربی اور فارسی تینوں زبانوں کی لغت کی کتابوں میں  تلاش کرنے کے باوجود ’’اذلان‘‘ یا ’’ازلان‘‘ کا معنی نہیں مل سکا، بظاہر یہ کسی اور زبان کا لفظ ہے۔ البتہ بعض ذرائع سے پتا چلا ہے کہ ’’اذلان‘‘ ترکی زبان کا لفظ ہے، اور اس کا معنی ہے: شیر، بہادر۔ اسی طرح ملائی زبان میں بھی اس کا استعمال پایا جاتاہے۔

بہرحال ’’اذلان‘‘ نام رکھنا جائز تو ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام حضرات انبیاءِ کرام علیہم السلام و التسلیمات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر رکھے جائیں یا عربی کے اچھے معنی والے نام رکھے جائیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406101070
تاریخ07-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں