بیوہ،تین بیٹیوں اورتین بہنوں کےدرمیان ترکہ کی تقسیم
سوال
مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹیاں اور تین بہنیں ہیں،اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کےترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین (کفن و دفن )کے اخراجات نکالنے کے بعد ،اگر میت کے ذمّے قرض ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ،اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی ترکہ کی ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو72حصوں میں تقسیم کرکے9حصےبیوہ کو،16حصےہرایک بیٹی کواور5حصےہرایک بہن کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:72/24
| بیوہ | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بہن | بہن | بہن |
| 3 | 16 | 5 | ||||
| 0 | 16 | 16 | 16 | 5 | 5 | 5 |
یعنی فیصدی کےاعتبارسے12.5فیصد مرحوم کی بیوہ کو،22.22فیصد اس کی ہرایک بیٹی کواور6.94فیصد اس کی ہرایک بہن کوملےگا۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

