بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے بعد بلند آواز سے خاص سورتوں کی تلاوت کاحکم

سوال

ہر فرض نماز کے بعد مخصوص سورتیں ہمارے آسام کے اکثر مدارس میں ایک بچہ بلند آواز سے تلاوت کرتا ہے اور باقی تمام طلبہ و اساتذہ بغور سنتے ہیں ! کیا یہ بدعت ہے ؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں ہر فرض نماز کے بعد مخصوص سورتوں کی  بلند آواز سے تلاوت اوراس پر لزوم بدعت ہے لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔جامع العلوم والحکم میں ہے :

"فكل ‌من ‌أحدث شيئا، ونسبه إلى الدين، ولم يكن له أصل من الدين يرجع إليه، فهو ضلالة، والدين بريء منه، وسواء في ذلك مسائل الاعتقادات، أو الأعمال، أو الأقوال الظاهرة والباطنة."

(الحدیث ثامن والعشرون اوصیکم بتقوی اللہ،128/2،مؤسسة الرسالة)

مرقاة المفاتيح ميں هے :

"وفيه أن ‌من ‌أصر ‌على ‌أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟"

(باب الدعاءفی التشھد،755/2،دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100926
تاریخ04-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں