بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھانےکاحکم

سوال

کیاسنی مسلک کا امام شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھاسکتاہے؟ہمارےگاؤں کےایک امام نےشیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھانےسےانکارکردیا،جس کی وجہ سےآدھاگاؤں اس پرغصہ ہے،براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

جو شیعہ کفریہ عقائد رکھتاہو(مثلاً: قرآنِ کریم میں تحریف (ردوبدل) کاقائل ہو، یا ان کے  بارہ امام  کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ وہ گناہ سے معصوم ہیں، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیلِ امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی ماننا ،  امامت کو نبوت سے اٖفضل ماننا،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرنا وغیرہ) اس کی نمازِ جنازہ پڑھنایا پڑھانا  سنی  مسلمان کے لیے حرام ہے، جو شخص اس کے کفریہ عقائد سے مطلع ہونے کے باوجود جائز سمجھتے ہوئے اس کی نماز جنازہ پڑھے یا پڑھائے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس پراپنے اس فعل پر توبہ کرنے کے بعد تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنابھی لازم ہوگا۔

لہٰذا مذکورہ امام کا ایسے شیعہ  کی  نمازِ  جنازہ  سے انکار کرنا درست  ہے، گاؤں  کےلوگوں کااس پرنمازِ جنازہ نہ پڑھانےکی وجہ سےغصہ ہونابےجاہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100867
تاریخ04-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں