بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعمیر شدہ عیدگاہ پر مدرسہ کے لیے گھر تعمیر کرنے کا حکم

سوال

ہمارے یہاں عیدگاہ کے پاس ایک چھوٹا مدرسہ ہے، اب مدرسہ کے لیے گھر بناناضروری ہے، کیا عیدگاہ کے میدان میں مدرسہ کے لیے گھر بنانے کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جو زمین عید گاہ  کے لیے وقف  شدہ ہو اس پر مدرسہ کے لیے گھرتعمیر کرنا جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم و الدلالة، و وجوب العمل به."

(كتاب الوقف، ‌‌مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:366، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لايجوز كذا في الغياثية."

(كتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لايجوز وفي وقف المشاع، ج:2، ص:362، ط:رشيديه)

فتاوی مفتی محمودمیں ہے :

"عید گاہ کی زمین میں مسجد بنانا جائز نہیں ہے, "شرط الواقف کنص الشارع" ؛  لہذا عید گاہ کی زمین میں اس مسجد کی توسیع نہ کی جائے۔"

(باب الحضر والاباحۃ، عیدگاہ کی زمین پر مسجد بنانا جائز نہیں، ج:10، ص:105، ط:جمعیۃ پبلیکیشنرز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100842
تاریخ04-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں