بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ

سوال

پلاٹ لیا ہے بیچنے کی نیت سے کیا اس پر زکوٰۃ فرض ہو گی حنفی علماء کے نزدیک؟

جواب

صورت مسئولہ میں جو پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا ہے  چونکہ یہ مال تجارت ہےلہذا صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ کے وقت مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے زکوۃ واجب ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم الخ."

(کتاب الزکوۃ ، الفصل الثانی فی العروض جلد ۱ ص: ۱۷۹ ط: دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100733
تاریخ03-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں