بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر پہ دیے گئے خرچہ کا مطالبہ کرنا

سوال

میرے والد صاحب کی پینشن سے گھر کا خرچہ پورا ہوتا تھا ۔جب کہ  میں اپنی فیملی کے  ساتھ بیرون ملک مقیم ہوں۔ ہر ماہ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اللہ کے حصہ کے طور پر نکالتا ہوں ۔ والد صاحب کا انتقال ہوئے چار ماہ ہو گئے ۔ پینشن ہمشیرہ کے نام پر تبدیل کرانے کا پراسیس ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ سوال یہ تھا کہ میں انہیں گھر کے اخراجات چلانے کیلئے ہر ماہ پیسے بھیج رہا ہوں جب تک پینشن کا مسئلہ حل نہ ہو جائے اور جب پینشن ہمشیرہ کو ملنے لگے تو کیا میں ان پیسوں کا تقاضہ کر سکتا ہوں کسی اور غریب کو دینے کی نیت سے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اگر  آپ  نے  رقم  بھیجتے  وقت کچھ طے نہیں کیا تھا کہ آپ یہ رقم واپس لیں گے یا یہ رقم ابھی قرض کے طور پر دے رہا ہوں،  بلکہ آپ بغیر کسی شرط کے اپنی طرف سے یہ رقم بھیجتے رہے ، تو ایسی صورت میں آپ کی طرف سے گھر کے خرچے کے لیے بھیجی گئی رقم  آپ کی طرف سے ہدیہ ہے ، آپ اس رقم کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتے ۔

تنقيح الفتاوى الحامديةمیں ہے : 

"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

( تنقيح الفتاوى الحامدية: كتاب المداينات، (2 /226 ) ط: دار المعرفة بيروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144406100644
تاریخ02-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں