بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باہر رہنے کے بعد حقیقی گھر میں قصر ہوگا یا اِتمام؟

سوال

کوئی شخص اپنے گھر میں نہ رہتا ہو،کہیں اور رہتاہو،کرایہ پر رہتا ہو،کیا جب وہ اپنے حقیقی گھر جائے گا تو کیا قصر نماز پڑھے گا؟اگر قصر جتنی مدت کا قیام ہوتو کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگرحقیقی گھر میں قیام قصر والی مدت یعنی پندرہ دن سے کم ہو،یاپندرہ دن سے زیادہ ،بہر صورت نماز مکمل ہی ادا کرے گا۔

"الموسوعة الفقهيةالكويتية"میں ہے:

"أجمع الفقهاء على أن القاطن في وطنه الأصلي أو وطن الإقامة، لا يقصر الصلاة،لأن القصر رخصة السفر، ولا يكون القاطن في أحد هذين الوطنين مسافرا، وعليه فإن المسافر الذي يباح له القصر إذا عاد إلى وطنه الأصلي يجب عليه الإتمام من حين الدخول إلى الوطن، سواء نوى الإقامة فيه مدة، أو أقام فيه فعلا."

(ج:44، ص:60، ط:وزارة الأوقاف والشئون)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100505
تاریخ31-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں