بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی چاچا سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے

سوال

زاہد جوکہ بڑا بھائی ہے، اس کی بیوی نے کسی بچی کو دودھ پلایا، اب زاہد کا چھوٹا بھائی (عمر) اس بچی (جس کو زاہد کی بیوی نے دودھ پلایا تھا) سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 زاہد کی بیوی نے جس بچی کو دودھ پلایا ہے اس کے ساتھ زاہد کے چھوٹے بھائی (عمر) کا نکاح شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ عمر اس بچی کا رضاعی چچا ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

"(قوله ولبن الفحل) هو من إضافة الشيء إلى سببه (يتعلق به التحريم) يعني اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد يتعلق به التحريم بين من أرضعته وبين ذلك الرجل بأن يكون أبا للرضيع، فلا تحل له إن كانت صبية؛ لأنه أبوها ولا لإخوته؛ لأنهم أعمامها."

(كتاب الرضاع، ج:3، ص:448، ط: بولاق مصر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100469
تاریخ31-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں