بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کام کے حصول کے لئے روزہ رکھنے کی منت ماننے کا حکم

سوال

کسی کام کے حصول کے لئے روزہ رکھنے کی منّت ماننا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی کام کے ہونے کے لئے روزہ رکھنے کی منّت درست ہے، اور اس سے نذر منعقد ہوجاتی ہے، کیوں کہ یہ عبادتِ مقصودہ ہے، اور عبادتِ مقصودہ کی منّت ماننے سے نذر منعقد ہوجاتی ہے، لہذا کام ہونے پر منّت مانا ہوا روزہ رکھنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعاً للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر)؛ لحديث: «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم ... الخ".

(کتاب الایمان، مطلب فی احکام النذر، ج:3، ص:735، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100397
تاریخ29-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں