والد کی وفات کے بعد بڑے بیٹے کی دستار بندی
سوال
والد کے فوت ہونے پر بڑے بیٹے کی دستار بندی کرنے کا کیا حکم ہے، کیا شریعت میں اس کا کوئی ثبوت ہے؟
جواب
والد کی وفات کے بعد بڑے بیٹے کی دستار بندی شرعاً ثابت نہیں ہے، لہذا اس کو شرعی حکم سمجھنا ، یا اس کو ضروری اورلازم سمجھ کر کرنا،اورنہ کرنے والوں پرطعن وتشنیع کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس میں مذکورہ خرابیاں نہ ہوں، بلکہ یہ باہمی رضامندی سے صرف اس مقصد کے لیے کیا جاتا ہو کہ والد کی وفات کے بعد گھر کا انتظامی سربراہ بڑا بیٹا ہے تو اس صورت میں یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، جو ناجائز نہیں ہے،اور لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ والد کا جانشین یہ ہے۔
مرقاة المفاتیح میں ہے:
"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟."
(3/31، کتاب الصلاة، الفصل الأول، ط: رشیدیة)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

