بیماری سے شفا پانے کے لیے صدقہ کرنے کا حکم
سوال
ایک شخص بیمار ہے، اُس کی شفا کے لیے کتنا گوشت صدقہ کر سکتے ہیں ؟ اور مرغی کاگوشت صدقہ کرناجائز ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ ایک حدیث شریف میں بیماریوں کا علاج صدقہ سے کرنے کی ترغیب آئی ہے ،البتہ اس حدیث میں نہ تو صدقہ کی کوئی خاص مقدار مقرر کی گئی ہے اور نہ ہی گوشت صدقہ کرنے کی تخصیص کی گئی ہے ،بلکہ یہ ہر شخص کی استطاعت پر چھوڑ دیا گیاہے ،البتہ بہتر یہ ہے کہ کسی غریب کو نقد رقم دیدی جائے جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکے، گوشت دینا ضروری نہیں باقی مرغی کا گوشت بھی صدقہ کرنا درست ہے، مگر گوشت ہی صدقہ کرنا ضروری نہ سمجھا جائے ۔
کنز العمال میں ہے:
"داووا مرضاكم بالصدقة و حصنوا أموالكم بالزكاة؛ فإنها تدفع عنكم الأعراض و الأمراض". الديلمي - عن ابن عمر."
(حرف الطاء،كتاب الطب ، الباب الأول ،الفصل الأول في الترغيب،رقم الحديث : 28183 ،24/10 ، ط: مؤسسة الرسالة)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

