ہمارے شہر میں جادو دکھایا جاتا ہے تو مجھے اس کو دیکھنے کی رغبت ہوئی ہے تو کیا دیکھنا جاںٔز ہے ؟
سوال
فی زمانہ ہمارے شہر میں جادو دکھایا جاتا ہے تو مجھے اس کو دیکھنے کی رغبت ہوئی ہے تو کیا دیکھنا جائزہے ؟
جواب
احادیثِ مبارکہ میں نجومی اور کاہن وغیرہ کے پاس جانے پر بہت سخت قسم کی وعیدیں آئی ہیں، لہذا سائل کے لیےجادو دیکھنے کے لیے جانا جائز نہیں ، سائل اپنے آ پ کو اس قسم کی لغویات اورفضولیات سے بچائے اور اپنا وقت قیمتی بنائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله الكاهن قيل كالساحر) في الحديث " «من أتى كاهنا أو عرافا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد» أخرجه أصحاب السنن الأربعة، وصححه الحاكم عن أبي هريرة۔۔والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب بالحصى، والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي."
(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:4، ص:242، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

