بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ سے قرآن سننا

سوال

آپ صلی علیہ وسلم نے آخری مرتبہ کس صحابی سے پورا قرآن سنا ؟

جواب

واضح رہےکہ کتبِ احادیث میں  کافی تلاش کے بعد کہیں کوئی ایسی روایت  نہیں  مل سکی جس میں کسی ایسےصحابی کا تذکرہ ہو جس  نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو مکمل قرآن سنایا ہو، البتہ  بعض مواقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا  بعض صحابہ کرام سے قرآن کا کچھ حصہ سننا منقول ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایات منقول ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ؛ انہوں نے عرض کیا :میں آپ کو قرآن سناؤں جب کہ وہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباًارشاد فرمایا:"بے شک میں اپنے علاوہ کسی دوسرے سے قرآن سننا پسند کرتا ہوں"۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ‌عبد الله رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: اقرأ علي القرآن، قلت: آقرأ عليك وعليك أنزل؟ قال: إني أحب أن أسمعه من غيري."

(‌‌كتاب فضائل القرآن، باب من أحب أن يسمع القرآن من غيره، رقم الحديث:5049، ج:6، ص:195، ط:دارطوق النجاة بيروت)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبد الله، قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌اقرأ ‌علي القرآن» قال: فقلت: يا رسول الله ‍ أقرأ عليك؟ وعليك أنزل؟ قال: «إني أشتهي أن أسمعه من غيري»، فقرأت النساء حتى إذا بلغت:{ فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا }رفعت رأسي، أو غمزني رجل إلى جنبي، فرفعت رأسي فرأيت دموعه تسيل."

(كتاب الصلاة، باب فضل استماع القرآن، وطلب القراءة من حافظه للاستماع والبكاء عند القراءة والتدبر، رقم الحديث:800، ج:1، ص:551، ط:دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100308
تاریخ28-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں