بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکستان سے عمرے کے لیے جانے والے کا گھر یا ائیرپورٹ سے احرام باندھنے کا حکم

سوال

 میری عمرہ کے لیے پاکستان ائیر پورٹ سے روانگی ہے، کیا میں یہاں  سے احرام باندھ کر جاسکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ عمرہ کی ادئیگی کے لیے پاکستان ائیرپورٹ یا گھرسے احرام باندھ کرجاسکتے ہیں،اور اگر روانگی سے قبل احرام نہیں باندھا تو میقات سے قبل احرام باندھنا ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"المواقيت التي لا يجوز أن يجاوزها الإنسان إلا محرما خمسة: لأهل المدينة ذو الحليفة ولأهل العراق ذات عرق، ولأهل الشام جحفة ولأهل نجد قرن، ولأهل اليمن يلملم، وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها كذا في الهداية.

فإن ‌قدم ‌الإحرام ‌على ‌هذه ‌المواقيت جاز وهو الأفضل إذا أمن مواقعة المحظورات وإلا فالتأخير إلى الميقات أفضل كذا في الجوهرة النيرة."

(كتاب المناسك، الباب الثاني في المواقيت، ج:1، ص:221، ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100193
تاریخ27-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں