بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جدہ سے احرام باندھنا

سوال

عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ گیا، پھر جدہ جاکر مکہ مکرمہ داخل ہونے کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں   اگر سائل جدہ سے   عمرہ کے علاوہ کسی دوسرے کام سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتا ہو تو اس کے لیے احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہونا جائز ہے، اور اگر عمرہ کا ارادہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے احرام باندھ کر ہی مکہ میں داخل ہونا ضروری ہے، اگر وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہو گیا اور احرام باندھنے دوبارہ میقات   پر (حدودِ حرم سے باہر)  بھی نہیں گیا تو اس پر دم لازم ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله فهذا) الإشارة إلى أهل داخلها بالمعنى الذي ذكرناه فالحرم حد في حقه كالميقات للآفاقي فلا يدخل الحرم إن قصد النسك إلا محرما بحر".

(کتاب الحج،مطلب فی المواقیت،ج:2،ص:478،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100181
تاریخ27-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں