بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قادیانی کی کمپنی میں کام کرنا

سوال

کسی قادیانی شخص کی کمپنی میں کام کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

قادیانی نہ صرف کافر ہیں، بلکہ مرتد و زندیق بھی ہیں، لہذا  تمام مکاتبِ فکر کا متفقہ فتوی ہے کہ قادیانیوں/مرزائیوں سے خریدوفروخت، تجارت، لین دین، سلام و کلام،  ملنا جلنا، کھانا پینا، شادی و غمی میں شرکت، ان کی تجہیز و تکفین میں یا  نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ میں شرکت، تعزیت، عیادت، ان کے ساتھ تعاون یاملازمت سب شریعتِ اسلامیہ میں سخت ممنوع اور حرام ہیں، لہٰذا کسی بھی مسلمان کے لیے کسی قادیانی کی کمپنی میں  ملازمت کرنا   جائز نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100131
تاریخ26-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں