بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنبی شخص سے ہاتھ ملانا

سوال

اگر ناپاک آدمی سے ہاتھ ملائے اور اس سے کوئی چیز لے تو کیا ہاتھ یا وہ چیز ناپاک ہوتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ حالتِ جنابت میں غسل کا حکم تو ہے، لیکن یہ حکمی ناپاکی کی وجہ سے ہے،  یعنی اس حالت میں اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو تو جنبی آدمی کا کسی کو چھونے یا ہاتھ ملانے سے ہاتھ ناپاک نہیں ہوتا۔

حدیث پاک میں ہے:

" عن أبي هریرة أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم لقیه في بعض طریق المدینة وهو جنب، فانتجست منه، فذهبت فاغتسلت، ثم جاء فقال: أین کنت یا أباهریرة؟ قال: کنت جنباً فکرهت أن أجالسك وأنا علی غیر طهارة، قال: سبحان الله! إن المؤمن لاینجس".

(صحیح البخاري، کتاب الغسل، باب عرق الجنب وأن المسلم لاینجس، 1/42 . ط: قدیمی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حالتِ جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مصافحہ کیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ سوچ کرکہ میں ناپاک ہوں، چھپ کے سے نکل گئے اور غسل کرکے پھر مجلس میں آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جانے کی وجہ دریافت فرمائی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں حالتِ جنابت میں تھا، میں نے ناپسند کیا کہ ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100075
تاریخ26-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں