بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کوئی بینک اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہے

سوال

 کس بینک کی ہر پالیسی شریعت کے مطابق ہے؟ اور اس پر یقین رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کا اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں؟

جواب

کسی بھی بینک  کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،   تاہم  ضرورت کے وقت بامر مجبوری کسی بھی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے۔

مسنداحمد میں ہے:

"عبد الرحمن ابن عبد الله بن مسعود عن أبيه عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "‌لعن ‌الله اكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه."

(مسندعبدالله ابن مسعود رضي الله عنه، ج:4، ص:43 ، الرقم:3808، ط: دار الحديث)

الدرالمختار مع الردالمحتار ميں هے:

"(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ... الخ."

(کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة، فصل في القرض، مطلب کل قرض جرّ نفعًا حرام، ج: 5، ص: 166، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100074
تاریخ26-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں