بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ظہر کی چار سنتیں رہ جائیں تو فرض کے بعد کس ترتیب سے پڑھیں؟

سوال

ظہر کی چار رکعت سنت فرض سے پہلے رہ جائیں تو بعد میں کس ترتیب سے پڑھنی چاہئیں؟

جواب

اگر کسی شخص کی ظہر کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ رہ گئی ہوں اور وہ امام کے ساتھ فرض نماز میں شامل ہو گیا ہو تو ایسے شخص  کو چاہیے کہ وہ فرض نماز سے فارغ ہو کر پہلے دو رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کرے، اس کے بعد چھوٹی ہوئی چار رکعت سنت ادا کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد، وبه يفتى جوهرة.
(قوله: وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي، أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح؛ لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين». وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ والحديث قال الترمذي: حسن غريب، فتح".

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، كِتَابُ الصَّلَاةِ، بَابُ إدْرَاكِ الْفَرِيضَةِ، 2/ 59، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100060
تاریخ25-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں