بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق میں شک ہوجانے کی صورت میں طلاق کاحکم

سوال

شک ہوا کہ طلاق دی،پھر عورت کو کہا کہ مصیبت پیش آئی ،تو  مجھے نکاح کا وکیل بناؤ ،تاکہ تجدیدِ نکاح کروں ،پھر حل ہوا کہ طلاق نہیں دی ۔ کیا عورت کو اس طرح کہنے سے نکاح میں حرج ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق دینےمیں شک ہوجانے  کی وجہ سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔نیز اس شک کی بنیاد پراپنی بیوی کومذکورہ جملہ کہنےسےنکاح پرکوئی اثر نہیں پڑاہے،نکاح بدستوربرقرار ہے۔

"الأشباہ والنظائر" میں ہے :

"ومنها: شك هل طلق أم لا لم يقع."

(قاعدة من شك هل فعل أم لا، ص:52،  ط: دارالكتب العلمية)

"غمز عيون البصائرفي شرح الأشباه والنظائر"میں ہے:

"أما الطلاق والعتاق فإنهما ‌لا ‌يقعان ‌بالشك."

(قاعدة من شك هل فعل أم لا، 211/1، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144406100019
تاریخ25-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں