بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرنسپل کا زیادہ اضافی پیریڈ لگاکرزیادہ تنخواہ وصول کرنا

سوال

میں ایک پرائیوٹ اسکول میں پرنسپل ہوں،اسکول کامالک مجھے بیس ہزار تنخواہ دیتا ہے،اگر میں اضافی پیریڈ لگاکر زیادہ تنخواہ لوں تو کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں سائل جو کہ پرنسپل  ہےاگر وہ اپنے متعینہ وقت سے زیادہ وقت دیتا ہے ،اور اضافي پيريڈ ليتا هے،تو اسکول کے مالک کو اطلاع دے کر زیادہ تنخواہ وصول کرسکتا ہے،تاہم مالک کی اجازت کے بغیر اضافی پیریڈ کی تنخواہ لینادرست نہیں۔

    فتاوی شامی میں ہے:

"وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل.

(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى ... (قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه، وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."

(6/70، کتاب الاجارۃ، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144405101891
تاریخ22-12-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں